Mashriq 1.0
My WordPress Blog

آئینی عدالت کا عمران خان کی ہسپتال منتقلی کیس سے جڑے تمام مقدمات کی سماعت کا فیصلہ

تین قیدیوں کی بانی پی ٹی آئی کی طرز پر پرائیویٹ ہسپتال میں سہولیات دینے کے معاملہ پر سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت نے حکم دیا کہ کسی بھی ہائیکورٹ میں اس نوعیت کا کوئی بھی کیس زیر التوا ہو اسکا ریکارڈ بھجوایا جائے۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے بانی پی ٹی آئی کے متعلق توہین عدالت، ہسپتال منتقلی اور نظرثانی درخواست کا ریکارڈ طلب کر لیا۔

 

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، دورانِ سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 175 ای کی زیلی شق 5 کے تحت وفاقی آئینی عدالت آئینی تشریح کے سوال پر ملک کی کسی بھی عدالت کا ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔

 

جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کا اطلاق کا امیر اور غریب پر برابر ہونا چاہئے، جسٹس علی باقر نجفی نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ نے ہمیں نوٹس جاری کیے بغیر حکم دیا۔

 

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا، جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کو درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ طے نہیں کرنا چاہئے تھا، اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بالکل ایسے ہی ہے۔

 

اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئینی تشریح کا اختیار اب وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس تو فوجداری نوعیت کا ہے، ہمارے پاس کیس اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آیا ہے، سپریم کورٹ کا حکم تو ابھی عبوری ہے۔

 

جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال تو اختیار سماعت کا ہے، سوال یہ ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق کا کیس اب کون سن سکتا ہے۔

 

بعدازاں وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ بانی پی ٹی آئی ہسپتال منتقلی کیس سے منسلک تمام ریکارڈ اور مقدمات آئینی عدالت سنے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More