کینسر کے مریضوں میں ڈپریشن سے موت کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے: تحقیق
کینسر کے مریضوں میں ڈپریشن کی موجودگی کینسر سے موت کے زیادہ خطرے سے تعلق رکھ سکتی ہے۔SEER-میڈی کیئر کی جانب سے کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ مطالعے میں شامل کینسر کے مریضوں میں 22 فی صد ایسے تھے جنہیں میجر ڈپریسیو ڈس آرڈر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان مریضوں میں ڈپریشن نہ رکھنے والے مریضوں کے مقابلے میں کینسر سے متعلق موت کا خطرہ 11 فی صد زیادہ تھا۔اعداد و شمار کے مطابق کینسر کی تشخیص کے ایک سال بعد ڈپریشن کے شکار مریضوں میں کینسر سے متعلق موت کی شرح 29 فی صد تھی جبکہ ڈپریشن نہ رکھنے والے مریضوں میں یہ شرح 21 فی صد رہی۔ پانچ سال بعد یہ شرح بالترتیب 43 فی صد اور 35 فی صد تھی۔تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر ایڈمنڈ ایم کیاو¿ نے کہا کہ کینسر کے دوران ڈپریشن کی علامات اکثر نظر انداز ہوجاتی ہیں کیونکہ تھکن، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور کسی کام میں دلچسپی ختم ہونا کینسر یا اس کے علاج کے باعث بھی ہوسکتا ہے۔تحقیق کے مطابق کینسر کی تشخیص کے بعد جلد نفسیاتی اسکریننگ اور ضرورت پڑنے پر سائیکوتھراپی کے لیے ریفر کرنا مریضوں کی جامع نگہداشت کا اہم حصہ ہوسکتا ہے۔تاہم، محققین کے نتائج ڈپریشن اور کینسر سے ہونے والی موت کے درمیان تعلق ظاہر کرتے ہیں؛ یہ ثابت نہیں کرتے کہ ڈپریشن براہِ راست موت کا سبب بنتا ہے۔تجزیے کے مطابق کینسر کی تشخیص کے فوراً بعد نفسیاتی علاج (سائیکوتھراپی) کروانے سے کینسر کے باعث موت کے خطرے میں کمی واقع ہوئی۔تحقیق کے نتائج امریکن سوسائٹی فار ریڈی ایشن آنکولوجی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کیے گئے۔